طارق سعیدی شاید ۱۹۹۵ کی بات ہے، میں کراچی میں صدر کے علاقے سے کورنگی کی طرف جانے کی کوشش کر رہا تھا جہاں میں ان دنوں رہتا تھا۔ مغرب کے بعد کا وقت تھا اور جب میں ایمپریس مارکٹ سے مڑا تو گاریوں کے رش کی وجہ سے آگے بڑہنا مشکل بلکہ نا ممکن ہو گیا۔ بمپر سے بمپر لگا ہوا تھا۔ ہر گاڑی والا پورے خلوص سے ہارن بجا رہا تھا، گویا کہ ہارن کہ بھیانک آواز سے اگلی سب گاڑیاں ہوا میں تحلیل ہو … [Read more...]
کہنا ہی پڑا
طارق سعیدی نہ تو میں اونٹ تھا اور نہ ہی وہ بات تنکا مگر نتیجہ کچھ ایسا ہی نکلا ۔ جیدے نے کہا، استاد یہ بتا کہ ہمارے پیران روشن ضمیر انسان کے ایمان کی اصل کیفیت تو دعوے سے بیان کر سکتے ہیں مگر یہ اطلاع دینے سے قاصر رہتے ہیں کہ فلاں بچہ آج شام اغوا ہو جاے گا اور تین دن تک جنسی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد قتل کر دیا جاے گا۔ میں نے جواب دیا، غیب کا علم تو صرف … [Read more...]
